Tuesday, 7 January 2014

کشمیر: ریفرینڈم کے بیان پر بھوشن پر شدید تنقید

آخری وقت اشاعت:  پير 6 جنوری 2014 ,‭ 17:40 GMT 22:40 PST
پرشانت بھوشن عام آدمی پارٹی کے سینیئر رہنما ہیں
انڈیا کے سیاسی افق پر حال ہی میں ابھرنے والی عام آدمی پارٹی کے ایک سینیئر رہنما پرشانت بھوشن نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخلی سلامتی کے لیے مسلح افواج کی تعیناتی پر حتمی فیصلہ ریفرینڈم کے ذریعہ کیا جانا چاہیے۔
مسٹر بھوشن کے بیان پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور خود ان کی پارٹی نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ پرشانت بھوشن سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل ہیں اور عام آدمی پارٹی کے بانیوں میں شامل ہیں۔
ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری پوری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ دستور ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے کشمیر کے عوام کی آرزوؤں کے مطابق یہ فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ داخلی سلامتی کے لیے وہاں فوج رہے یا نہ رہے۔ بیرونی خطرات کے بارے میں فیصلہ تو وفاقی حکومت کرے گی لیکن داخلی سلامتی کے لیے۔۔۔ مقامی لوگوں کی مرضی کے خلاف وہاں فوج نہیں رہنی چاہیے اور اس کے لیے ریفرینڈم کرایا جاسکتا ہے۔‘
"مقامی لوگوں کی مرضی کے خلاف وہاں فوج نہیں رہنی چاہیے اور اس کے لیے ریفرینڈم کرایا جاسکتا ہے"
پرشانت بھوشن
پرشانت بھوشن دو سال پہلے بھی مسئلہ کشمیر پر اپنی متنازع رائے ظاہر کر چکے ہیں اور اس وقت ان کے بیان کا یہ مطلب نکالا گیا تھا کہ اگر کشمیری آزادی چاہتے ہیں تو انھیں طاقت کے زور پر نہیں روکا جانا چاہیے۔ اس بیان کے بعد کچھ نوجوانوں نے ان کے دفتر میں گھس کر انھیں مارا پیٹا بھی تھا۔
دہلی میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ یہ پرشانت بھوشن کی ذاتی رائے ہے جس سے پارٹی کا کوئی سروکار نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پرشانت بھوشن نے جو کچھ کہا ہے پارٹی اس سے بالکل متفق نہیں ہے، فوج کو کہاں تعینات کیا جائے یہ فیصلہ خطرے کی نوعیت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے اور اس میں ریفرینڈم ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔‘
عام آدمی پارٹی جمہوریت کے ایک ایسے ماڈل کی وکالت کرتی ہے جس میں تمام اہم فیصلے مقامی لوگوں کی رائے سے ہی کیے جائیں۔ دلی میں حکومت بنانے سے پہلے بھی پارٹی نے پورے شہر میں چھوٹے چھوٹے جلسے کر کے لوگوں کی رائے معلوم کی تھی اور اس کے بعد ہی اقلیتی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اروند کیجریوال کے بیان پر علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی نے اپنی رائے بدل لی ہے۔ ادھر بی جے پی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر بھوشن علیحدگی پسندوں کی زبان بول رہے ہیں۔
"پرشانت بھوشن نے جو کچھ کہا ہے پارٹی اس سے بالکل متفق نہیں ہے، فوج کو کہاں تعینات کیا جائے یہ فیصلہ خطرے کی نوعیت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے اور اس میں ریفرینڈم ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔"
اروند کیجریوال، لیڈر، عام آدمی
پارٹی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’یہ وہی زبان ہے جو علیحدگی پسند استعمال کرتے ہیں۔‘
عام آدمی پارٹی کی حکومت کو باہر سے کانگریس کی حمایت حاصل ہے۔ وفاقی وزیر منیش تیواڑی نے کہا کہ یہ حساس موضوع ہے جس پر سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔
سخت تنقید کے بعد پرشانت بھوشن نے ایک بیان میں کہا کہ ’عام آدمی پارٹی کا نظریہ ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں اس نظریے سے اتفاق کرتا ہوں۔ ریفرینڈم کے ذکر سے یہ مطلب نہیں نکالا جانا چاہیے کہ ہم کشمیر کے الحاق پر ریفرینڈم کی بات کر رہے ہیں۔‘
عام آدمی پارٹی نے پیر کو ہی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات میں زیادہ تر حلقوں سے الیکشن لڑے گی اور اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ وہ اہم قومی مسائل پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

No comments:

Post a Comment

LEAVE YOUR REPPLY

Name

Email *

Message *